نئی دہلی،27؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مودی حکومت تین طلاق کو جرم قرار دے کر اس کے لئے سزا مقرر کرنے سے متعلق بل کل یعنی جمعرات کو لوک سبھا میں پیش کرے گی۔بل کا نام ہے ’’دی مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائٹس ان میرج ایکٹ‘‘،اس بل پر سیاسی بحث تو پارلیمنٹ میں ہوگی لیکن مسلم معاشرے میں ابھی سے اس کی مخالفت شروع ہو گئی ہے۔حکومت جس بل کو مسلم خواتین کے حق کے لئے انقلابی بتا رہی ہے، اس کی دفعات کو لے کر مسلم پرسنل لاء بورڈکو خدشہ ہے اور اس کے اسے لے کر کچھ سوالات بھی ہیں۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اہم رکن کمال فاروقی نے بل پر اپنے اعتراضات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بغیر کسی تیاری کے سیاسی موقف کے تحت بل لاتی ہے۔ملک میں 13فیصد مسلمان ہیں،حکومت ان کے لئے ایک بل لاتی ہے لیکن اس نے اس سے بھی بہتر خیال نہیں کیا کہ وہ ان سے رائے حاصل کریں۔سپریم کورٹ نے ایک بار پھر تین طلاقوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔عدالت کا فیصلہ ہی قانون مانا جاتا ہے ،اس کے بعدپھرسے الگ قانون بنانے کی ضرورت کیا ہے۔مودی حکومت منمانی کرکے بل لارہی ہے، جو شریعت میں براہ راست مداخلت ہے اور مسلم پرسنل لاء بورڈاسے قبول نہیں کرے گا۔